Reservation in Karnataka داخلی ریزرویشن منظور





پسماندہ طبقات کیلئے داخلی ریزرویشن

 جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کی 
عبوری رپورٹ کو کابینہ کی منظوری 

بنگلور، 27 مارچ: ( حقیقت ٹائمز) 

کرناٹک کابینہ نے آج جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کی عبوری رپورٹ کو منظوری دے دی ہے، جس میں درج فہرست ذاتوں کے اندر داخلی ریزرویشن کے حوالے سے اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ وزیر قانون و سیاحت ایچ کے پاٹیل نے وزیر سماجی بہبود ایچ سی مہادیوپا اور وزیر طبی تعلیم شرن پرکاش پاٹیل کے ہمراہ ودھان سودھا میں پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔کابینہ نے درج فہرست ذاتوں میں ذیلی برادریوں کی ازسرنو درجہ بندی کے لیے نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ان طبقات کے درمیان ریزرویشن کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ جسٹس ناگ موہن داس کمیشن کی رپورٹ میں سائنسی بنیادوں پر مردم شماری کرانے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 30 سے 40 دنوں میں اس عمل کو مکمل کرنے، نئے سوالنامے کی تیاری اور مردم شماری کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔وزیر قانون ایچ کے پاٹیل کے مطابق کابینہ نے اس مردم شماری کو 60 دنوں میں مکمل کرنے کے لیے کمیشن کو دو ماہ کی مہلت دی ہے، تاکہ جلد از جلد حتمی رپورٹ پیش کی جا سکے۔ حکومت داخلی ریزرویشن کے شفاف اور قانونی نفاذ کے لیے سنجیدہ ہے اور چاہتی ہے کہ تمام مستحق طبقات کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔صحافیوں کی جانب سے دو ماہ میں مردم شماری مکمل کرنے کے امکان پر سوال اٹھایا گیا تو وزیر قانون نے وضاحت کی کہ ریاست میں 6,000 سے زائد گرام پنچایتیں اور 300 سے زیادہ شہری وارڈز موجود ہیں، جن میں مردم شماری کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے چیف سکریٹری کی نگرانی میں اس کام کو انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ریزرویشن کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔وزیر سماجی بہبود ایچ سی مہادیوپا نے واضح کیا کہ 2011 کی مردم شماری میں آدی کرناٹک، آدی دراوڑ، آدی آندھرا اور دیگر درج فہرست ذاتوں کے درست اعداد و شمار شامل نہیں تھے، جس کے باعث داخلی ریزرویشن کی تقسیم میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی تھیں۔ اسی لیے حکومت نے نئی مردم شماری کے فوری انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ داخلی ریزرویشن کے لیے درست اور مکمل ڈیٹا دستیاب ہو۔نئی مردم شماری مکمل ہونے کے بعد کمیشن کی حتمی رپورٹ کی بنیاد پر درج فہرست ذاتوں کے اندر ریزرویشن کے تناسب کو حتمی شکل دی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو درج فہرست ذاتوں کے لیے مزید مساوی مواقع کی راہ ہموار کرے گا۔

Author

Arambh Suddi Kannada News True Newses And Stories Telecasting

Experienced journalist focused on global news, trends, and untold stories — with a commitment to accuracy and impact.

0/Post a Comment/Comments